Tribe Republic
Tribe Republic is a Digital Tree having shoots of numerous digital initiatives

پاکستان میں رئیل اسٹیٹ بزنس کے موقع کہاں اور کس حد تک ہیں ایک خصوصی رپورٹ

494

پاکستان میں رئیل اسٹیٹ بزنس کے موقع کہاں اور کس حد تک ہیں ایک خصوصی رپورٹ

پاکستان کے تعمیراتی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو یہ واحد شعبہ ہے جو تمام تر مسائل اور دشواریوں کے باوجود کام کر رہا ہے، جن میں ہاؤسنگ پالیسی کے ضمن میں واضح پالیسی کا فقدان، عمارت کے نقشے کی منظوری میں تاخیر اور تعمیرات سے وابستہ اداروں کے مابین عدم تعاون شامل ہے۔پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا مستقبل دیکھا جائے تو کئی لحاظ سے ترقی کے روشن امکانات نظر آتے ہیں۔
مکانات کی قلت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع
پاکستان میں80لاکھ مکانات کی قلت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں لاکھوںافراد کے پاس گھر نہیں ہے۔ تعمیراتی مواد کی نسبتاً کم لاگت کے باوجودپاکستان کاتعمیراتی شعبہ لوگوں کی مکانات کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہے اور یہ تعداد ہر سال بڑھتی جارہی ہے۔بعض مطالعات کے مطابق پاکستان میں مزدوری اور عمارت سازی سب سے سستی ہے۔پاکستانی رئیل اسٹیٹ ان دونوں عوامل سے واقعی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔اس شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آسان اور قابلِ برداشت اقساط پر مبنی عوام دوست اسکیمیں شروع کی جائیں۔ نئے سرمایہ کاراور نوجوان اپنی صلاحیتوںاوراختراعی ایجادات سے تعمیراتی شعبے میں انقلاب بھی لاسکتے ہیںہے جیساکہ این ای ڈی یونیورسٹی کے طالب علموں نے حال ہی میں تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے چوبیس گھنٹے کی مختصر مدت میں مکان تیار کرنے کا عملی مظاہرہ کیاتھا۔ایسے جدت ساز نوجوان انجینئرز کو تعمیراتی شعبے میں شامل کرکے ہم اپنی تعمیرات کے مستقبل کو روشن کرسکتے ہیں اور نئے خون کی شمولیت سے جدید اور منفرد تعمیراتی ڈیزائن اور آرکیٹیکچر کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔

تارکین وطن کی رئیل اسٹیٹ میں بڑھتی دلچسپی
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں بیرونِ ملک اور سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے اپنے اور اہلِ خانہ کے لیے اپارٹمنٹس، مکانات اور پلاٹس کی خریداری میں دلچسپی بڑھی ہے اور جب سے کراچی میںبڑے تعمیراتی منصوبوں میں رہائش اختیارکرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے تب سے تعمیراتی شعبے کے بست و کشاد بھی بڑے لگژری پروجیکٹس پر سرمایہ کاری کر رہےہیں۔ اس پورے منظر کا بہترین حصہ یہ ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت اب اپنے ملک واپس آنے کا سوچ رہی ہے،اس لیے وہ یہاں لگژری اپارٹمنٹس میں سوئٹس اور فلیٹ بُک کرانے میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس شعبے میں ماہرینِ معاشیات اور تجزیہ کاروں کی طرف سے بھی مثبت اشاریے پیش کیے جارہے ہیں جس کے بعد اسٹیٹ ایجنٹس ، خریدار،فروخت کنندگان اور سرمایہ کار پاکستان کے رئیل اسٹیٹ میں زیادہ سے زیادہ سرگرم نظرآرہے ہیں کیوں کہ یہ واحد شعبہ ہے جہاں آپ کم از کم مداخلت پر صحرا میں پھول کھلا سکتے ہیں۔اس کا منہ بولتا ثبوت بلوچستان میں تعمیراتی سرگرمیاں ہیں ،جس کا وسیع بے آب و گیاہ رقبہ مستقبل میں تعمیرات کے وسیع امکانات رکھتا ہے۔

ڈیجیٹل نقشہ سازی اور آن لائن رئیل اسٹیٹ
پاکستان کی رئیل اسٹیٹ آج کئی حوالوں سے جدت کے قالب میں ڈھل رہی ہے اوراب عوام میں بے ہنگم اور بےڈھنگی عمارات کے خلاف شعور پروان چڑھ رہا ہے۔ میڈیا اورسیر و سیاحت کے بڑھتے ادراک کے باعث اب ہمارے لیے دبئی ماڈل سب سے اہم حیثیت اختیار کر گیا ہے، جسے دیکھتے ہوئے ہمارے بلڈرز اور عوام دبئی ماڈل کو ترجیح دیتے ہوئے ایسی عمارت سازی کی طرف مائل ہو رہے ہیں جو دیدہ زیب اور ماہرِ تعمیرات کے نقشے کےعین مطابق ہوں ۔ اس ضمن میں ڈیجیٹل نقشہ سازی میںانقلابی اقدامات اٹھائے گئےہیں جن کے ذریعے ایسے سافٹ ویئر اور ایپلی کیشنز سامنے آگئی ہیں کہ آپ ماہرِ تعمیرات کی طرح اپنے گھر کا ڈیزائن خود مرتب کرسکتے ہیں۔تھری ڈی پرنٹر نے نقشہ سازی سمیت ڈیزائن اور تعمیر کے امور بھی آسان تر کردئیے ہیں ۔ساتھ ہی پاکستان رئیل اسٹیٹ کے آن لائن پورٹ فولیوز نےاب پلاٹ کی خرید و فروخت کے عمل کو بھی پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ مکانات یااپارٹمنٹس کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے افرادپاکستانی بلڈرز کے تعمیراتی منصوبوں سمیت ہر قسم کی کٹیگری کے پلاٹ اور تعمیراتی منصوبے آن لائن ملاحظہ کرسکتےہیں۔

ابھرتی مڈل کلاس کی تعمیرات میں شرکت
پاکستان میں متوسط طبقے کے تناسب کے بارے میں مختلف آ را موجود ہیں۔کچھ ماہرین کے مطابق متوسط طبقے کا سائز 6کروڑ ہے جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیںزیادہ ہے کیونکہ ملک میں گزشتہ چند سالوں کے دوران افراط زر میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم پاکستان میں بڑھتے ہوئے متوسط طبقے کے بارے میں مختلف فورمز پر گرما گرم مباحثے جاری ہیں۔چونکہ رئیل اسٹیٹ کی سرمایہ کاری بلا منافع ہے اس لیے اس شعبے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ متوسط طبقےکی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور وہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کی طرف متوجہ ہورہے ہیں،اس لیے کہ اس میں منافع کی یقینی گنجائش ہر صورت موجود ہوتی ہے اور ہر ماہ پراپرٹی کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ متوسط طبقے کی اس شعبے میں بڑھتی دلچسپی اس امر کی غماز ہے کہ آنے والے دنوں میں تعمیراتی صنعت ترقی کے نئے افق چھوئے گی ۔اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اس شعبے میں ترغیبات دے کر متوسط طبقےکی شرکت کو یقینی بنائے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More